ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کمٹہ بی جے پی میں بغاوت کی ہوا ہوگئی تیز۔ اننت کمار ہیگڈے کے خلاف ماحول گرم

کمٹہ بی جے پی میں بغاوت کی ہوا ہوگئی تیز۔ اننت کمار ہیگڈے کے خلاف ماحول گرم

Sun, 29 Apr 2018 18:06:30    S.O. News Service

کمٹہ29؍اپریل (ایس اونیوز)ضلع شمالی کینرا کے کمٹہ اسمبلی حلقے میں بی جے پی کے اپنے خیمے میں بغاوت کا تانڈو رقص تیز ہوگیا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ اس علاقے میں اپنی پسند کے امیدواروں کو میدان میں اتارنے کی کوشش کرنے والے اننت کمار ہیگڈے کے خلاف ماحول بہت زیادہ گرم ہوگیا ہے۔

بی جے پی کے لیڈروں پر یہاں ایک بہت بڑا الزام جو سامنے آرہا ہے اس کے مطابق جب بھی ناخوش گوار واقعات ہوتے ہیں تو پارٹی پچھڑے طبقات کے نوجوانوں کو استعمال کرتی ہے اور جب حالات نارمل ہوجاتے ہیں تو پھر ان کا ساتھ چھوڑدیا جاتا ہے۔اور اس کی زندہ مثال کے طور پر سورج نائک سونی کو پیش کیا جاتا ہے،جس نے سابقہ الیکشن میں بی جے پی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا تھا۔لیکن اس بارپارٹی نے اسے ٹکٹ سے محروم رکھا تو وہ باغی امیدوار کے طور پر میدان میں اتر پڑا ہے۔

ہوناور میں پریش میستا کی مشکوک موت کے بعد ہونے والے احتجاج اور تشدد میں سورج نائک سونی کو ایک اہم ملزم بنایا گیا تھا۔ اس کے جانورو سپلائی کرنے والوں پر جان لیوا حملے میں بھی اس کانام آیاتھا اور اسے جیل کی ہوا کھانی پڑی تھی۔اب وہی سورج نائک سونی مرکزی وزیر اننت کمار ہیگڈے پر انگلی اٹھاتے ہوئے کہہ رہا ہے کہ نچلے طبقے کے نوجوانوں کو تشدد میں استعمال کرنے کے بعد پھر انہیں بالکل نظر انداز کردیا جاتا ہے۔

سونی کا سوال یہ ہے کہ:’’ کمٹہ اسمبلی حلقے میں ابھی کچھ عرصے پہلے تک جنتادل میں شامل رہنے اور گزشتہ تین اسمبلی انتخابات ہارنے کے بعد چند دن پہلے بی جے پی میں شمولیت اختیار کرنے والے دینکر شیٹی کو ٹکٹ کی وجہ کیا ہے، اس سلسلے میں وزیر موصوف کو واضح کرنا ضروری ہوگا۔‘‘اس کے جواب میں بی جے پی ذرائع کا کہنایہ ہے کہ گزشتہ انتخاب میں دینکر شیٹی کو صرف 420ووٹوں سے شکست ہوئی تھی ، اس لئے ایک مضبوط امیدوار کی شکل میں انہیں ٹکٹ دیا گیا ہے ۔ جبکہ سورج نائک کا کہنا ہے کہ گزشتہ الیکشن میں کے جے پی امیدوار میدان میں رہنے کی وجہ سے ووٹوں کی تقسیم ہوئی تھی، اس لئے وہ خود تیسرے نمبر پر آگیا تھا۔ اگر اُس وقت بی جے پی متحد ہوتی تو اس کی جیت یقینی تھی۔

ویسے سونی کے علاوہ حال میں بی جے پی میں شامل ہونے والے کاروباری یشودھر نائک بھی باغی امیدوار کے طور پر میدان میں ہیں۔اس کا الٹا اثر بی جے پی امیدوار پر ہونا لازمی دکھائی دے رہا ہے۔کیونکہ سورج اور یشودھر دونوں ہی کمٹہ اسمبلی حلقے کی نامدھاری جیسی اہم برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔

ویسے ساحلی علاقے میں ایک عام خیال یہی ہے کہ سنگھ پریوار کے لیڈرہمیشہ نچلے طبقات کے لوگوں کو فرقہ وارنہ جذبات کا استحصال کرنے کے لئے استعمال کرنے کے بعد ان کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں اور بعد میں ہونے والی مشکلات سے خود انہی نوجوانوں کو نمٹنا پڑتا ہے۔اس کے علاوہ شمالی کینرا میں گزشتہ مرتبہ ہونے والے فرقہ وارانہ تشدد کے بعدبی جے پی سے وابستہ کم از کم 200نوجوانوں کے خلاف مقدمات دائر کیے گئے ہیں۔اس ضمن میں جونوجوان جیلوں میںٹھونس دئے گئے تھے ، ان سے مرکزی وزیر اور رکن پارلیمان اننت کمار ہیگڈے کا لاتعلقی برتنا اور کسی بھی قسم کی مدد کے لئے آگے نہ آنا بھی وزیر موصوف کے خلاف نوجوانوں کے اندر بددلی کا سبب بن گیا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حالات کا الٹااثر اس مرتبہ الیکشن میں بی جے پی کے لئے مہنگا پڑسکتا ہے اور کانگریسی امیدوار شاردا شیٹی کی جیت کا راستہ مزید آسان ہوسکتا ہے۔


Share: